حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کی سلام تنظیم برائے جمہوریت و انسانی حقوق نے شیعہ علماء کے ساتھ روا رکھے گئے مبینہ غیر انسانی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 9 مئی 2026 کو گرفتار کیے گئے متعدد شیعہ علماء کو دورانِ حراست جسمانی تشدد، توہین آمیز رویے، گالی گلوچ اور انسانی وقار کے منافی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زیرِ حراست علماء سے مبینہ طور پر تشدد اور دباؤ کے ذریعے جھوٹے اعترافات اور تفتیشی دستاویزات پر دستخط بھی کرائے گئے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور بحرین کے اپنے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ موصول ہونے والی مستند اطلاعات کے مطابق بعض علماء کو تفتیشی افسران نے مارا پیٹا، فرقہ وارانہ جملے کہے، جنسی زیادتی کی دھمکیاں دیں، شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی اور ان کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑایا۔ تنظیم کے مطابق ایسے اقدامات بحرین کے مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ وکلاء کو مقدمے کی دستاویزات تک رسائی بھی فراہم نہیں کی گئی، جس سے منصفانہ دفاع کا حق متاثر ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال، آئینی اصولوں کی خلاف ورزی اور عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ یہ رویہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کی سفارشات کے بھی خلاف ہے، جن میں بحرین سے جبری اعترافات کے حصول کے لیے بدسلوکی سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سلام تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام الزامات کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، گرفتار شیعہ علماء کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ تنظیم نے یہ بھی زور دیا کہ مقدمے کی عدالتی کارروائی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اس سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ عدالتی اور انتظامی اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔









آپ کا تبصرہ